نئی دہلی/ممبئی: مشرقِ وسطیٰ میں چھڑنے والی خلیجی جنگ نے بھارتی معیشت اور توانائی کے شعبے کی قلعی کھول دی ہے۔ بھارت بھر میں ایل پی جی (LPG) کی شدید قلت نے ممبئی سے لے کر راجستھان تک زندگی مفلوج کر دی ہے، جس کے باعث مودی حکومت کی توانائی پالیسیاں بری طرح بے نقاب ہو گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا ادارے ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے معاشی مرکز ممبئی میں ایل پی جی سلنڈرز کی نایابی نے کاروبارِ زندگی کو بریک لگا دیے ہیں۔ہوٹلوں، ڈھابوں اور چھوٹی فیکٹریوں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے کام رک گیا ہے۔ روزگار ختم ہونے کے باعث دہاڑی دار مزدوروں نے بڑے پیمانے پر ممبئی سے اپنے آبائی گاؤں کی جانب پیدل اور ٹرینوں کے ذریعے واپسی شروع کر دی ہے۔
ایل پی جی بحران کا اثر ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی شدید طریقے سے پڑا ہے۔ گیس اسٹیشنز پر گاڑیوں کی کلومیٹر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، جہاں لوگ کئی کئی گھنٹے انتظار کے بعد خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔ مال بردار گاڑیوں کے پہیے رکنے سے اشیائے خوردونوش کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جو معاشی سرگرمیوں میں بدترین کمی کی واضح علامت ہے۔دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر خلیجی ممالک پر انحصار اس کے لیے "اچیلس ہیل" (کمزوری) ثابت ہوا ہے۔
خلیجی جنگ کی وجہ سے سپلائی لائنز متاثر ہوتے ہی بھارت کا اسٹریٹجک گیس ریزرو جواب دے گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس متبادل منصوبہ موجود نہیں تھا۔
راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں گھریلو صارفین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سلنڈر کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ عوامی حلقوں میں حکومت کے خلاف شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے بی جے پی حکومت کی اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا ہے۔