نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے ایک عیسائی فوجی افسر کی جانب سے ہفتہ وار مذہبی پریڈ میں شرکت سے انکار پر اس کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج کو مذہب نہیں بلکہ وردی متحد کرتی ہے۔جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس شالندر کور پر مشتمل بینچ نے افسر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ افسر نے اپنے ذاتی عقائد کو فوجی کمان کے احکامات پر فوقیت دی، جو کہ فوجی ڈسپلن کے خلاف ہے۔
عدالت کے مطابق فوج میں مذہبی رسومات کا مقصد کسی مخصوص عقیدے کی ترویج نہیں بلکہ فوجیوں کا حوصلہ بڑھانا اور اتحاد قائم رکھنا ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مذہبی آزادی کا نہیں بلکہ ایک قانونی حکم کی تعمیل کا معاملہ ہے۔ جب افسر کو سمجھایا گیا کہ اس پریڈ میں شرکت اس کے مذہب کے خلاف نہیں، تب بھی اس نے انکار جاری رکھا۔
عدالت نے زور دیا کہ فوج میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور علاقوں کے افراد شامل ہوتے ہیں، مگر وہ سب ایک وردی کے تحت متحد ہو کر ملک کے دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ افسر کو متعدد بار سمجھایا گیا، چرچ کے پادری سے بھی مشورہ کروایا گیا، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا، جو فوجی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ ایک عام شہری کے لیے یہ فیصلہ سخت لگ سکتا ہے، مگر فوج میں نظم و ضبط کے تقاضے عام معیار سے کہیں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا ہم افسر کی برطرفی کے حکم میں کوئی غیر قانونی یا امتیازی پہلو نہیں دیکھتے، لہٰذا اپیل مسترد کی جاتی ہے۔