گلگت :گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے اور پولنگ میں صرف چار دن باقی رہ جانے کے باعث سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خطے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے اور دونوں جماعتوں کے قائدین اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے میدان میں متحرک ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف خود اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی فرنٹ فٹ پر قیادت کر رہے ہیں اور جارحانہ انداز میں ووٹرز کو راغب کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی خطے میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور پارٹی مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انتخابی جلسوں سے خطاب کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کا نام لیے بغیر شدید سیاسی تنقید کی اور ایک دوسرے کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔انتخابات پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت آج خطے میں دو بڑے جلسے کرنے جا رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج چلاس میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ ان کی ہمشیرہ اور رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری آج ہنزہ میں انتخابی مورچہ سنبھالیں گی اور عوامی جلسے سے خطاب کریں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پولنگ سے ٹھیک 4 دن پہلے بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کا چلاس اور ہنزہ کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان انتخابی مقابلہ مزید کانٹے دار ہو گیا ہے۔