اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر سینیٹ میں اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے ہونے والی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ پاکستان پسِ پردہ ایران کے مسئلے کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا تھا اور ہمیں قوی امید تھی کہ مذاکرات کے ذریعے مثبت حل نکل آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے معاملے پر متفق ہو چکا تھا۔پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر ایران کا مقدمہ لڑا اور حملے کے فوری بعد ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ایران ہمارا بھائی اور بہت عزیز دوست ملک ہے، جس کی سالمیت ہمیں عزیز ہے۔
ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعظم نے پاکستان کی دفاعی وابستگیوں کو بھی واضح کیا۔ انہوں نے کہا ہم سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں جس کے ہم مکمل پابند ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے معاہدوں کا احترام بھی کرتا ہے۔
ایران میں مقیم پاکستانیوں کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس وقت ایران میں 35 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ اب تک 792 پاکستانیوں کو وہاں سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے اور بقیہ شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔