بیجنگ: چین نے اپنی آئل ریفائنریز پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان غیر قانونی پابندیوں پر عمل نہ کریں۔ چینی وزارتِ تجارت نے واشنگٹن کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے ایران سے خام تیل درآمد کرنے کے الزام میں چین کی پانچ بڑی آئل ریفائنریز پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ بیجنگ نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں اور پابندیوں کو دوسرے ممالک کی خود مختار کمپنیوں پر زبردستی لاگو کرے۔
چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا"امریکہ کی جانب سے لگائی گئی یہ پابندیاں یکطرفہ ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ چینی کمپنیوں کے جائز کاروباری حقوق کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔
چینی حکومت نے اپنی کمپنیوں کو امریکی دباؤ میں نہ آنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے تجارت جاری رکھے گا۔ بیجنگ کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ ان کی تجارت مکمل طور پر شفاف اور قانونی ہے۔