Get Alerts

گرینڈ حیات کیس: نادہندگی اور معاہدے کی خلاف ورزی پر لیز منسوخ، فلیٹس خالی کرنے کا الٹی میٹم

گرینڈ حیات کیس: نادہندگی اور معاہدے کی خلاف ورزی پر لیز منسوخ، فلیٹس خالی کرنے کا الٹی میٹم

اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت میں گرینڈ حیات بی این پی (BNP) لیز کیس اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سی ڈی اے (CDA) نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں پولیس کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ فلیٹس کے رہائشیوں اور قابضین کو ایک ہفتے میں جگہ خالی کرنے کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
اس کیس کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی جب سی ڈی اے نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے 13.5 ایکڑ زمین BNP کمپنی کو 4.8 ارب روپے میں لیز پر دی۔ کمپنی نے صرف 15 فیصد رقم ادا کر کے زمین کا قبضہ حاصل کر لیا، تاہم بقیہ رقم کی ادائیگی کے بجائے ری شیڈولنگ کا سہارا لیا گیا جو طویل عرصہ جاری رہا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2019 میں کمپنی کو ریلیف دیتے ہوئے لیز کی بحالی کے لیے 17.5 ارب روپے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق     کمپنی نے اب تک صرف 2.9 ارب روپے جمع کروائے۔    کمپنی تاحال 14.5 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔    مسلسل نادہندگی کی بنیاد پر 2023 میں لیز حتمی طور پر منسوخ کر دی گئی۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کمپنی نے لیز کے معاہدے کے برعکس ہوٹل کی جگہ 263 لگژری فلیٹس تعمیر کیے۔ سی ڈی اے کی جانب سے تعمیرات کے دوران واضح وارننگ اور انتباہی بورڈز آویزاں کیے جانے کے باوجود یہاں خریدو فروخت کا سلسلہ جاری رہا۔
موجودہ رپورٹ کے مطابق ان 263 فلیٹس میں حقیقی رہائشیوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔    صرف 69 فلیٹس میں لوگ موجود ہیں، جبکہ باقی 194 فلیٹس محض پراپرٹی انویسٹرز کے پاس ہیں۔    آباد فلیٹس میں سے بھی محض 15 فیصد لوگ مستقل رہائش پذیر ہیں۔    بقیہ 85 فیصد فلیٹس کو بطور "ایئر بی این بی" (AirBNB) کمرشل بنیادوں پر ایک ایک دن کے کرائے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے بارہا انتباہ کے باوجود رقم لگانے والے افراد کے لیے حکومت نے "بڑا دل" دکھاتے ہوئے نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے متاثرہ خریداروں کو ان کی جانب سے ادا کردہ اصل قیمت واپس کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ عام شہریوں کے مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔
انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ 7 دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد عمارت کا قبضہ مکمل طور پر ریاست کے پاس چلا جائے گا اور کسی قسم کی مزید رعایت نہیں دی جائے گی۔

ٹیگز: