اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی اور ممکنہ تبدیلی کے لیے دوبارہ غور و خوض کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں سولر انڈسٹری کی تنظیموں، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور موجودہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "تمام تجاویز کا ہر زاویے سے مثبت اور تعمیری انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔ ہمارا مقصد کسی کاروبار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایسی قانون سازی کرنا ہے جو صارفین، نیشنل گرڈ اور سولر انڈسٹری تینوں کے مفاد میں ہو۔"
انہوں نے کہا کہ پالیسی میں کوئی بھی ترمیم سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی اور حکومتی ترجیح قابل تجدید توانائی کے فروغ اور بجلی کی فراہمی میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے صارفین اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فروخت کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کے بل کم ہوتے ہیں بلکہ ملک میں توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔