اسلام زندہ ہوتا ہے ہر صلیبی معرکہ کے بعد

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر صلیبی معرکہ کے بعد

اسلامو فوبیا درحقیقت صلیبی جنگوں کا ہی ایک تسلسل ہے، موجودہ دور میں دشمنان اسلام نے اس کو اسلامو فوبیا کا نام دے دیا۔ صلیبی جنگوں کی تاریخ کی ڈاکٹرائن کا مطالعہ کرنے سے ایک حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ جب بھی صلیبی حکمرانوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ مل کر جنگیں شروع کیں، تب پہلے انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اسلام و مسلمانوں کے خلاف کئی کئی ماہ تک خوب پراپیگنڈہ کر کے اپنی قوم کی ذہن سازی کی۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف شروع ہونے والی جنگوں میں ان کو افرادی ایندھن وافر مقدار میں مل سکے۔ بالکل اسی Patternپر یہی دجالی کھیل گذشتہ پچاس سال سے عالم اسلام میں مختلف ناموں جیسے تہذیبوں کا تصادم، War against terrorrism,نیو ورلڈ آرڈر، Islamic terrorism، عرب بہار اور گریٹر مشرق وسطیٰ کے نام سے کھیلا جارہا ہے۔جبکہ یورپ و امریکہ میں یہی گھناؤنا کھیل اسلامو فوبیا کے نام پر کھیلا جارہا ہے تاکہ وہاں کے مسلمان ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ عالم اسلام میں خانہ جنگیوں سمیت بعض طاقتور ممالک کو معاشی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ راقم کی رائے میں اسلامو فوبیا کا Main theme دین اسلام کے زیر نگیں زندگی گزارنے کے خوف کو زائل کرنے کے لیے نوآبادیاتی طرز پر مسلمانوں پر تسلط قائم کرنا ہے۔ اور تمام صلیبی جنگوں میں یہی خوف کارفرما رہا ہے۔
اپنے دجالی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شیطانی قوتیں مملکت اسلامیہ پاکستان کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ جس کی اساس کلمہ توحید پر ہے۔ وہ کلمہ توحید جس کی ابتدا لفظ ”لا“ سے ہوتی ہے۔ جس کے معانی ہی انکار کے ہیں یعنی دنیا کے ہر سیاسی، معاشی، سماجی و معاشرتی باطل نظاموں کا عملی شکل میں انکار۔ بیرونی دشمن اندرونی منافقین اور زرخرید غلاموں کے ساتھ مل کر مملکت اسلامیہ پاکستان کے خلاف آخری راؤنڈ میں داخل ہو چکا ہے۔مملکت اسلامیہ پاکستان ان کی آنکھوں میں کس بری طرح کھٹک رہاہے، ہر باشعور پاکستانی مندرجہ ذیل بیان سے اندازہ لگا سکتا ہے۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل بھارتی نژاد امیدوار نکے ہیلی نے جوبائیڈن حکومت کو پاکستان کی امداد بحال کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ایک کمزور امریکہ بُرے لوگوں کو پیسے دیتا ہے، صرف گذشتہ ایک سال میں کروڑوں ڈالر پاکستان کو دیئے گئے۔ ایک مضبوط امریکہ دنیا کی ATMمشین نہیں ہو گا“۔ درحقیقت یہ ڈپلومیٹک وے سے بلیک میلنگ کا فاشسٹ طریقہ ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نکے ہیلی اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر اور امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کی گورنر بھی رہ چکی ہے۔
کیا ہم اپنے افعال بد (کرپشن)کی وجہ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک خونریز خانہ جنگی کی طرف تو نہیں بڑھ رہے؟ یا پھر دشمنوں کے لیے شعوری یا لا شعوری طور پر سہولت کاری کا کام تو نہیں کر رہے؟ کیونکہ نسلیں، معاشرے، ملک اور سلطنتیں عدل اور سچائی کی بنیاد پر قائم و دائم رہتی ہیں نہ کہ کرپشن، وطن، عدل، ایمان و دین اور علم فروشی پر۔ یہی تو Hybrid Warfare کی چمتکاری ہے کہ اس میں اصل دشمن کا پتا نہیں چلتا اور اپنے گناہوں کا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر گلہ کاٹتے رہتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کے تمام ذمہ داران اور ان کی قیادتیں خاص کر سیاسی، جوڈیشری، سکیورٹی اور دینی و مذہبی حلقے، دجالی دشمنوں کے شیطانی عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ایک پیج پر آجائیں۔ اور فوری طور پر لٹی ہوئی تمام دولت ملک میں لانے کا بندوبست کریں۔ جب تک لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں آئے گی ہم بیرونی امداد کے محتاج رہیں گے اور ہر کوئی ہمیں اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دشمنان اسلام اُن احادیث مبارکہ کا اچھی طرح ادراک رکھتے ہیں کہ جن میں اِن کے زوال سمیت اِن کے خاتمے اور دین اسلام(قرآن وسنت) کے غلبہ کا ذکر ہے۔ جب راقم یہ بات کرتا ہے کہ آخری معرکوں میں مسلمانوں نے ہی غالب آنا ہے، تو راقم اس حوالے سے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتا کوئی مبالغہ آرائی نہیں کرتا۔ بلکہ صادق و مصدوق نبی برحق و مجاہد اعظم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ احادیث کی روشنی میں کہتا ہے۔ افسوس! مملکت اسلامیہ کے دینی و مذہبی حلقوں کی جانب سے ان آنے والی فتوحات، بشارتوں کے حوالے سے خاموشی چے معنی دارد۔ غربت، افراتفری، قتل وغارت گردی اور فتنہ وفساد، فسق وفجار میں ڈوبی ہوئی امت کو اس مایوسی سے نکالنے کے لیے احادیث کی روشنی میں علماء کرام اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ کوئی مانے یا نہ مانے غزوہ ہند اور غزوہ شام کی بشارتوں نے دشمنان اسلام کی نیندیں اڑا رکھی ہیں، یہ ایک ایسی کھلی حقیقت ہے جس نے دشمن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ جنگوں کی strategic depth کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے خوف اور جنونیت کو اسی کے خلاف استعمال کرتے ہوئے فتوحات کا دروازہ کھولا جائے۔ اسلام کی عسکری تاریخ کا ایک خوبصورت اعجاز یہ بھی ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر صلیبی معرکہ کے بعد۔