اسلام آباد :امریکہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ حکم محض وفاقی دارالحکومت تک محدود نہیں بلکہ لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ضروری عملے کو بھی پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ احتیاطی اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس اور متعلقہ اداروں نے خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے، جس کے باعث سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم ضروری سمجھا گیا۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ضروری سفارتی عملہ (Essential Staff) اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ اہم سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھی جائیں گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ زمینی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور سیکیورٹی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی وقت مزید اقدامات یا پالیسی میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔