Get Alerts

 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل امریکہ کا تہران پر بڑا حملہ: سینئر فوجی قیادت نشانہ

 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل امریکہ کا تہران پر بڑا حملہ: سینئر فوجی قیادت نشانہ


واشنگٹن / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ایران کے دارالحکومت تہران پر بڑے حملے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس حملے میں ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جس کی ویڈیو بھی وائٹ ہاؤس اور سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے تہران میں ایک انتہائی حساس فوجی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی سینئر فوجی قیادت، جو امریکی مفادات کے خلاف سازشوں میں مصروف تھی، اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ اب بال ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ بقا چاہتے ہیں یا تباہی۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں رات کے اندھیرے میں زوردار دھماکے اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے ایرانی دفاعی نظام کی ناکامی کا تاثر ابھرا ہے۔صدر ٹرمپ نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر نیا ایٹمی و دفاعی معاہدہ نہ کیا یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر نہ کھولا، تو اگلا قدم "تباہ کن" ہوگا۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ایران پر ایسی قیامت ٹوٹے گی جو تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔
یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند روز قبل ایران نے ایک امریکی جنگی طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران خطے میں اپنی فوجی مداخلت بند کرے اور تیل کی عالمی سپلائی لائن (آبنائے ہرمز) پر اپنا کنٹرول ختم کرے۔
 تہران کی جانب سے ابھی تک سینئر قیادت کی ہلاکتوں کی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، تاہم پاسدارانِ انقلاب نے "بھرپور انتقام" کا اعلان کیا ہے۔

ٹیگز: