تحریر: طارق وسیم
وطن عزیز مسلسل مہنگائی کے زلزلوں کی لپیٹ میں ہے ،ہر آفٹر شاک کے بعد بہت سے مطالبات سر اٹھانے لگتے ہیں ،انہیں میں سے ایک مطالبہ جو گزشتہ چند برسوں سے شدت پکڑتا جا رہا ہے ،سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مختلف مراعات کے خاتمے کا ہے۔دو سال سے ملک میں بجلی مسلسل مہنگی ہو رہی ہے ،اور یہ مطالبہ شدت سے جاری ہے کہ سرکاری ملازمین بشمول واپڈا کے اہلکار اور افسران کو مفت بجلی فراہم کرنی بند کی جائے ۔
ایران جنگ کے بعد اس مطالبے میں پٹرول بندش کا اضافہ ہو گیا ہے ،عوام کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کا مفت پٹرول بند کیا جائے ،سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کر کے کفایت شعاری اختیار کی جائے ۔ اس ضمن میں وطن عزیز میں حال ہی میں کچھ اقدامات کئے بھی گئے ہیں اوروفاقی وصوبائی سطح پر کفایت شعاری مہم جاری بھی ہے۔ اس ضمن میں آج کل سوشل میڈیا پر بھی ایک پوسٹ بہت وائرل ہے جس کے مطابق برطانیہ کی بیورو کریسی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد صرف86 ہے،جبکہ پاکستان کے سرکاری عملے کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد 85 ہزار 500 ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تمام باتوں میں صداقت ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مبالغہ آرائی ہو لیکن عوام کی ڈیمانڈ کو اہمیت دینا بہر حال ضروری ہے ۔
اگر ہم اپنے سرکاری ڈھانچے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم اب بھی برطانوی نو آبادیاتی نظام کی طرز پر مملکت خداد دا کو چلا رہے ہیں ۔ ہم نہ تو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم سے نکل پائے ہیں، نہ ہی مخصوص انگریز ذہنیت سے جان چھڑاسکے ہیں۔برصغیر پر قبضے کے بعد اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ، مقامی لوگوں پر اپنی ہیبت بٹھا دی جائے ،طریقہ اس کا یہ نکالا گیا کہ بندوق کے ساتھ ساتھ تضحیک کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ،برطانوی راج کے کلرک بھی برصغیر کے راجوں مہاراجوں سے تگڑے قرار پائے۔وائس رائے کا دفتر پورے برصغیر پر بھاری تھا ، لوگوں کو باقاعدہ مجبور کیا گیا کہ وہ لاٹ صاحب کو سلام کیا کریں ، بھگت سنگھ ، رائے حیدر خان کھرل اور ان جیسے سینکڑوں لوگوں کا قصور آزادی مانگنے کے ساتھ ساتھ ،انگریز سرکار کی ہیبت کو تسلیم نہ کرنا بھی تھا ، چند سال قبل تک پاکستان کے زیادہ تر گھرانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو غلامی کی زنجیروں میں قید رہ چکے تھے ،اور اکثر کہتے پائے جاتے تھے کہ موجود دور سے انگریزوں کا زمانہ اچھا تھا ۔
یہ وہ زہر تھا جو انگریز نے برصغیر کے لوگوں کی رگوں میں انڈیلا تھا ،یہی لوگ اپنی دھرتی کے کم اور انگریز سرکار کے زیادہ وفادار تھے ،کبھی آپ نے غور کیا ہے ،اب سے 70 سال قبل کے لوگ برطانوی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کیسے چلے جاتے تھے ؟یہاں ہر پچاسواں شخص آکسفورڈ اور کیمبرج کا پڑھا ہوا کیوں تھا ؟جاننا چاہتے ہیں ؟تو سوات سے نوبل امن انعام تک ملالہ یوسفزئی کی مکمل کہانی پڑھ لیں،،کیا آج کی نسل اتنی آسانی سے ان اداروں میں مفت تعلیم حاصل کر سکتی ہے؟ جبکہ اس کے آنے جانے کا ٹکٹ بھی انگریز اپنے پلے سے دیں اور جسے نام دیا جائے سکالر شپ کا ،یہی وہ انویسٹمنٹ تھی جس نے وطن عزیز کو برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد بھی آزاد نہیں ہونے دیا ۔یہاں محل نما سرکاری دفاتر ہیں، جہاں کلرک بادشاہ سے لے کر اوپر تک سب خود کو وائسرائے ہند ہی سمجھتے ہیں ،پولیس عوام کی چمڑی ادھیڑتی ہے ۔انتظامیہ ان کی زندگی اجیرن کرنے کی تنخواہیں وصول کرتی ہے ، اہلیت کا یہ عالم ہے کہ سول سروس کا امتحان دینے کے لیےآپ نے بس ٹوٹی پھوٹی گریجوایشن کرنی ہے ، اس کے بعد عوام پر مسلط ہو کر ان کا خون نچوڑنا ہے۔دنیا بھر میں کہیں اور ریاستی ملازمین کی سلیکشن کا یہ طریقہ رائج نہیں ہے۔زندگی کا ہر شعبہ اب سپیشلائزڈ ہے ، آپ کو وائسرائے نہیں ماہرین کی ضرورت ہے جو اپنے کام میں یکتا ہوں ، انتظامی مہارت کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ،اگر عدالتی معاملات میں بہتری کے لیے آئین پاکستان میں فوری ترمیم ہو سکتی ہے، تو ایک ترمیم انتظامی معاملات کے لیے بھی کر لیں ،وہ تمام سہولیات جو سرکاری نوکری اور ریاستی ضرورت کےنام پر دی جاتی ہیں۔ ان کا خاتمہ کریں کہ یہی وقت کی ضرورت اور عوام کے دلوں کی آواز ہے، ،1979 تک پاکستان میں سرکاری اداروں میں لوٹ مار نہ ہونے کے برابر تھی۔
سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال نہیں کیا جاتا تھا ،لیکن پھر سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ورلڈ آرڈر کے تحت قرض کی معیشت شروع ہوئی ،بینکنگ کا شعبہ براہ راست ریاستی وسائل استعمال کر کے کمائی کرنے لگا ، ریاستوں کو قرضوں کے حصول پر لگا دیا گیا ،سرکاری ادارے اہم ہو گئے اور پاکستان میں کچھ زیادہ ہی اہم ہو گئے نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ،لیکن اب وقت آچکا ہے کہ کفایت شعاری کی راہ اپنائی جائے ۔سرکاری اداروں کا حجم کم مراعات ختم اور عمارات مختصر کی جائیں ،تاجر طبقے کو ٹیکس دینے پر آمادہ کیا جائے ،ملکی معاملات چلانے کے لیے ان لوگوں کی مشاورت کے بجائے اعلیٰ اور جدید تعلیم کے حامل پروفیشنلز کا تھنک ٹینک بنایا جائے، جس کی آرا پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں باقاعدہ بحث ہو اور عوامی مفاد کے فیصلے کیے جائیں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔