اسلام آباد: یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہو جاتا، پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام غیر قانونی اقدامات واپس لے، کیونکہ ان کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو جلد از جلد ان کا حقِ خودارادیت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "ہم ایک امن پسند قوم ہیں، لیکن ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو ہماری بہادر افواج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔"
وزیر خارجہ نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کے لیے زمین خریدنے کے دروازے کھول دیے، کشمیری قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا، اور کشمیری عوام کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سرینگر کو دہلی سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عالمی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار نے پلوامہ حملے کے بعد اب پہلگام واقعے کو بھی بھارت کی جانب سے ایک منصوبہ بند ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ بھارت کا فراڈ تھا، اور ہم اس واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کے لیے تیار ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کی ہے۔
بھارت کا غاصبانہ قبضہ زیادہ دیر نہیں چلے گا، عطاء تارڑ
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے 5 اگست کو تاریخ کا ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کا وکیل رہا ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ "ہم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔" انہوں نے زور دیا کہ ایک دن کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ضرور ملے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کو نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عسکری محاذ پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے "معرکۂ حق" کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "جب بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو صرف اس کے جہاز ہی نہیں، مودی کا غرور بھی زمین بوس ہوا۔"
انہوں نے افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں اور دفاعی حکمتِ عملی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی جائیں گی اور دنیا کے مختلف ملٹری سکولوں میں ان پر "کیس اسٹڈی" بنے گی۔
خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا تھا۔ پاکستان ہر سال اس دن کو یومِ استحصال کشمیر کے طور پر مناتا ہے تاکہ بھارتی اقدامات کی عالمی سطح پر مذمت کی جا سکے اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔