نیویارک : اسرائیلی مظالم سے تڑپتے فلسطینیوں کے ایک بار پھر جنگ بندی کی امید پر پانی پھر گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا۔
یہ قرارداد الجزائر نے پاکستان سمیت 10 غیر مستقل اراکین کی حمایت سے پیش کی تھی، جسے سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے منظور کیا، لیکن صرف امریکہ کی مخالفت نے اسے ناکام بنا دیا۔
قرارداد میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، عام شہریوں کا تحفظ، اور امدادی سامان کی بلاتعطل ترسیل کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر امریکہ نے حسبِ روایت اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے اسے ویٹو کر دیا۔
ادھر غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 45 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، ایک بڑی امریکی امدادی تنظیم نے امداد کی تقسیم روک دی ہے، جس کی وجہ انتظامی رکاوٹیں اور سلامتی کے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے متاثرہ فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔