نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان نے غزہ میں فوری جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس لمحے کو عالمی برادری کے لیے ایک "سیاہ لمحہ" قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے غزہ کی موجودہ صورتِ حال کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ"ہر روز درجنوں بے گناہ فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، بچے بھوک سے مر رہے ہیں، اور اسرائیلی حملوں میں اسپتالوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے اور فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی پر عائد تمام رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں۔
واضح رہے کہ آج سلامتی کونسل میں پاکستان سمیت 10 غیر مستقل ارکان کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
یہ قرارداد اسرائیل سے مطالبہ کرتی تھی کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیاں بند کرے اور امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں ہٹائے، تاکہ انسانی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
عاصم افتخار نے اپنی تقریر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کرے، کیونکہ خاموشی صرف مظلوموں کا خون بہنے دے گی۔