واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران پر بروقت حملہ نہ کیا جاتا تو وہ محض دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے کے قابل ہو چکا تھا۔
امریکی صدر نے ایک خصوصی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایرانی جوہری پروگرام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری عزائم کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائل نظام اور لانچرز کا تیزی سے صفایا کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران میں جو بھی قیادت سنبھالے گا وہ مارا جائے گا، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن کے نتائج ہماری توقعات سے کہیں زیادہ بہتر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہم نے ایران میں 47 سال سے جاری قتل عام کو روک دیا ہے۔ ہم اس وقت تزویراتی لحاظ سے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہیں اور ایرانی خطرے کا جڑ سے خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین اور بہادر ترین فورس ہے جو میدانِ جنگ میں کمال بہادری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فوجی کارروائی کا مقصد خطے اور دنیا کو ایک بڑے ایٹمی خطرے سے بچانا تھا۔