Get Alerts

ڈکی بھائی کیس : گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسروں کا جسمانی ریمانڈ منظور

ڈکی بھائی کیس : گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسروں کا جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور : رشوت کے الزام میں گرفتار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCA) کے افسروں کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اس فیصلے کا تحریری حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان کے خلاف فراڈ اور بھاری رقم ہتھیانے کے الزامات ہیں۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان نے 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے کی رقم ہتھیائی۔ ایف آئی اے نے مزید شواہد اور دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ بڑھانے کی درخواست کی تھی، جو عدالت نے منظور کر لی۔

تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ملزمان سے مختلف افراد سے بھاری رقم برآمد ہوئی ہے، جن میں 7 لاکھ ارسلان رضا، 99 لاکھ زوار، 19 لاکھ 48 ہزار یاسر، 3 لاکھ 60 ہزار مجتبیٰ ظفر، 45 لاکھ محمد عثمان اور 3 لاکھ سلمان عزیز شامل ہیں۔ شکایت کنندہ عروب جتوئی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے شعیب ریاض کو 90 لاکھ روپے رشوت دی تھی۔

مزید برآں، عروب جتوئی کے مطابق، 5 لاکھ روپے چوہدری سرفراز احمد کو بھی دیے گئے۔ ایف آئی اے کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مقدمہ دو حصوں میں تقسیم ہے: پہلا رشوت کے الزامات، اور دوسرا این سی سی آئی اے میں بدعنوانی کے نیٹ ورک کا الزام۔

ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے زائد ہیں اور تحقیقات کے دوران ریکوری اور چھٹیوں کی وجہ سے متاثرین کے بیانات مکمل نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ، بھاری ریکوری کی وجہ سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ آئندہ جسمانی ریمانڈ صرف شواہد اور تحقیقات میں پیش رفت کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ ایف آئی اے کو ملزمان کے خلاف متاثرین کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹیگز: