Get Alerts

چین کا امریکہ کے 15 اداروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

چین کا امریکہ کے 15 اداروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

بیجنگ: چین نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 15 امریکی کمپنیوں پر عائد برآمدی پابندیاں ختم کرنے اور مزید 16 کمپنیوں کے لیے ان پابندیوں کو ایک سال کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ 10 نومبر سے نافذ ہوگا، جس کا اعلان چین کی وزارتِ تجارت نے اپنے تازہ بیان میں کیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موجودہ عالمی اقتصادی حالات اور چین و امریکہ کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔

وزارتِ تجارت نے واضح کیا کہ ان پابندیوں کے خاتمے سے چینی برآمدکنندگان کو دوہری مقاصد والی اشیاء (dual-use items) یعنی وہ مصنوعات جو سول اور دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں، کی برآمد کے لیے دوبارہ درخواست دینے کی اجازت ملے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ان امریکی کمپنیوں کے خلاف بھی وہ اقدامات ختم یا ایک سال کے لیے معطل کر رہا ہے جو مارچ اور اپریل میں “غیر معتبر اداروں کی فہرست” (Unreliable Entity List) میں شامل ہونے کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ یہ اقدامات بھی 10 نومبر سے مؤثر ہوں گے۔

وزارت کے مطابق اس فیصلے کے تحت چینی کمپنیاں اب ان امریکی اداروں کے ساتھ لین دین کے لیے باضابطہ درخواست دے سکیں گی۔

چینی حکام نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد “بین الاقوامی صنعتی اور سپلائی چین کی استحکام” کو یقینی بنانا اور “تجارتی ماحول میں غیر ضروری رکاوٹوں کو کم کرنا” ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد برآمدی پابندیوں کے جواب میں چین نے متعدد امریکی کمپنیوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے تھے۔ لیکن اب جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری اور تجارتی تعاون کے لیے ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔

چینی وزارتِ تجارت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ بھی اسی جذبے کے ساتھ منصفانہ اور غیر امتیازی بنیادوں پر چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا۔

ٹیگز: