ضمیر مر گئے!

ضمیر مر گئے!

سب نے دیکھا معاشی مشکلات میں گھرے پاکستان کے لیے گزشتہ روز بڑی خبر آ گئی آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے اپنا پروگرام بحال کر دیا مگر اس سے بھی بڑی خبر کے شاید ہی تاریخ میں کبھی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب اتنا گیا ہو کیونکہ پاکستان کے پاس صرف اور صرف چھ ہفتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر رہ گئے تھے اور دوست ملک بھی کسی بھی قسم کی مدد کو آئی ایم ایف کے پروگرام سے منسلک کر رہے تھے بین الاقوامی طرز کے ادارے بھی یہی شرط رکھ رہے تھے کہ پہلے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کا بحال ہونا ضروری ہے تو ہی پاکستان کو ہماری جانب سے قرض ملے گا سری لنکا کے ڈیفالٹ کرنے اور آئی ایم ایف کے ایک کے بعد ایک شرط لگانے کے بعد پاکستان کا ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ بڑھتا چلا جا رہا تھا مارکیٹس میں بھی یہ خطرات صاف صاف نظر آ رہے تھے روپے کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی تھی سٹاک مارکیٹ کریش کر رہی تھی پاکستان کے لٰے ان دنوں مشکلات مسلسل بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی کیونکہ اس کی سب سے بڑی غلطی گزشتہ حکومت پی ٹی آئی کی تھی اور اس چیز کا سب کو بخوبی اندازہ ہے وہ اب نہ مانے تو ایک الگ بات ہے وہ اس طرح سے جب پی ٹی آئی نے اپنے ہاتھ سے اقتدار جاتے دیکھا تو انہوں نے عوام کی نظر میں صرف اچھا بننے کے لٰے بجلی اور تیل پر سبسڈی دی جس سے یہ بات آئی ایم ایف کی شرائط کے خلاف تھی یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی مشکل میں پڑ گئی تھی اور پھر اس کے بعد کچھ یوں ہوا کہ جب مخلوط حکومت بنی تو انہوں نے بھی آ کر فیصلے کرنے میں تاخیر کی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا پروگرام لٹکتا چلا گیا مگر چند روز پہلے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہو گیا آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں اس معاہدے کی منظوری دے دی گئی اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی رقم جاری کر دی گئی ہے ایک طرف دیکھا جائے تو اللہ کا شکر بھی ادا کرتی ہوں کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا اور دوسری طرف افسوس بھی ہوتا ہے کہ ہم ابھی تک قرضوں پر ہی چل رہے ہیں ہم ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکے اس سارے معاملے میں اپنا پروگرام کرنے عوام میں گئی تو ایک صاحب نے مجھے کہا کہ بیٹا یہ حکمران قرض ملک کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ آپ اور مجھ جیسی غریب عوام کو غلام بنانے کے لٰے لیتے ہیں جب میں نے ان کی بات سوچی تو اس میں بہت حد تک صداقت بھی مجھے محسوس ہوئی کیونکہ اس کا خمیازہ تو ہم جیسے عوام بھگت رہے ہیں۔
جب آئی ایم ایف سے یہ پروگرام بحال ہونے جا رہا تھا تو ہم نے دیکھا جس میں ملک کی نامور سیاسی پارٹی جو کہ ملک کی بہت خیر خواہ بھی بنتی رہی تھی وہ چاہتے تھے کہ یہ پروگرام بحال نہ ہو سکے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پنجاب اور کے پی کے کے وزیر خزانہ کے ساتھ جو آڈیو لیک ہوئی جس کے بعد تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا اور عوام ایک گہری سوچ میں چلی گئی تھی اور جب اس حوالے سے شوکت ترین تیمور جھگڑا اور محسن لغاری کو پروگرام میں بلایا گیا کہ اس حوالے سے وضاحت دیں تو انہوں نے ایک خاموشی سادھ رکھی ہے دوسری جانب شوکت ترین وفاقی وزیر خزانہ مطالبہ کرتے دکھائی دیے کہ ان سے معافی مانگی جائے کہ انہوں نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک ڈیفالٹ کرنا چاہ رہے تھے جبکہ آڈیو میں صاف صاف واضح تھا کہ جس میں شوکت ترین کہہ رہے ہیں کہ سٹیٹ کو نقصان ہو گا اگر آئی ایم ایف کے پروگرام روک دیتا ہے اور ہم نے آئی ایم ایف کو یہ پروگرام روکنے کے لیے خط لکھنا ہے اور جب یہ آڈیو نیشنل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اور عوام کے سامنے آ رہے تھی تو دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ سے تیمور جھگڑا کی ملاقات چل رہی تھی وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ تیمور جھگڑا میرے پاس معاملہ یہ لے کر آئے تھے کہ جو پیسے آپ نے ہمیں دیے وہ ہماری تنخواہوں کے لیے بھی ناکافی ہیں جس میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ آپ نے کتنے لوگوں کو نوکری پر اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ عمران خان صاحب کہتے تھے کہ میری کابینہ میں بہت کم ملازم رکھے جائیں گے جب پی ٹی آئی کے پاس حکومت گی تھی تو اس وقت تیمور جھگڑا کے پاس 33 ہزار ملازم تھے مگر ساڑھے تین سال میں انہوں نے ان ملازموں کی تعداد بڑھا کر 88 ہزار کر دی اور 54 ہزار ملازمین اور بھرتی کر لیے یہ سارے کے سارے پیسے یعنی مجھ اور آپ جیسے غریب عوام کے پیسوں سے ان کو تنخواہیں جاتی رہی جس سے مہنگائی کا سارا بوجھ عوام پر گر گیا ایک طرف عمران خان سیاسی میچ جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے ایک طرف ملک میں تاریخ کا بدترین سیلاب ہے تو دوسری طرف اسی عوام کے خیر خواہ وہ بننے والے عمران خان صاحب کے جلسے ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اس سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ تمام سیاستدان کرسی کے لیے کسی اچھے بُرے وقت کا انتخاب نہیں کرتے ان کو کیا لگے عوام جئے یا مرے وہ مست رہتے ہیں۔
جس طرح عمران خان دعویٰ کر رہے ہیں کہ کون جیتے گا کون ہارے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیوں کہ عمران خان کو سب سے پہلے اپنے پیدا کوئی کی ہو یا جنوں کو اچھے طریقے سے جانا ہے پھر ہی معاملات بہتر ہو پائیں گے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ عمران خان کی سیاست سے سیلاب جیسے مشکل وقت میں بھی ختم نہیں ہو رہی ہیں جیسا کہ ہر آزمائش کے وقت پر ہر قوم متحد ہو جاتی ہے، تاریخ میں پہلی بار کہ بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی سیلاب کے پانی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور تین کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے ہیں کتنے لوگ مر گئے ہیں ان کا سب سے تباہ ہو گیا ہے لوگوں کے مویشی ہلاک ہو گئے ہیں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں ایسے تباہ کن ماحول میں بھی ہم ایک دوسرے کو بخشنے کو تیار نہیں ہے کیا ہمارے ضمیر مر گئے ہیں کیا ہم ایک زندہ لاش ہیں جو صرف مٹی کا جسم لئے پھرتے ہیں جس میں نہ دل ہے دماغ ہے؟
سیاستدان سیاست چھوڑنے پر تیار نہیں ہے اور ہر کوئی تلقین کرتا ہے کہ سیلاب کے موقع پر سیاست نہیں ہونی چاہیے لیکن اس وقت کوئی بھی راضی نہیں ہے کیا قوم کو اب بھی تقسیم کیا جا رہا ہے اور نعرے لگائے جا رہے ہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ طاقت کے اظہار کا کون سا موقع ہے ابھی الیکشن ہونے والے ہیں خان صاحب کی نشستوں پر کھڑے ہیں وہاں ان کی طاقت کا پتہ چل جائے گا اگر لوگ ان کو منتخب کر لیتے ہیں تو یقین وہ ناقابل تسکین کریں گے اور پھر قومی انتخاب بھی کون سا دور ہیں چند وقت ہی باقی رہ گیا ہے مگر ایک سیاستدان عوامی لیڈر ہوتا ہے خدارا عقل سے کام اور میری پوری قوم سے اپیل ہے کہ فوٹو سیشن بند کریں جو راشن امداد آپ جمع کر رہی ہیں اس سے لوگوں تک پہنچائیں جو اس کا اصل حق دار ہے اس تک پہنچ جائیں یہ تصویریں بنا کر ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرنا بند کریں کسی کی مدد اللہ اور آپ کے درمیان ایک راز ہوتا ہے اور اسے راز ہی رہنے دیجئے کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو پتہ تک نہ چلے کتنے لوگ ایسے ہونگے کہ جب آپ راشن میں امداد تقسیم کرتے ہوں گے تو اس دن سے آپ سے حاصل نہیں کرتے کہ آپ لوگ ویڈیوز اور تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں جس سے ان کی عزت کو ٹھیس پہنچتی ہے آج بھی ہم لوگوں میں سفید پوش لوگ موجود ہیں جو ان چیزوں سے گریز کرتے ہیں جو لوگ مدد کے لیے سیلاب زدہ علاقوں کا رخ کر رہے ہیں خدا نخواستہ یہ مانگنے والے نہیں ہیں بھکاری نہیں ہے ان کے اپنے گھر ان کے اپنے اچھے کاروبار تھے جو ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں اگر وہ آج آپ لوگوں سے مدد لے ہی رہے ہیں آپ کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں تو خدارا فوٹو سیشن بند رکھ کر ان کی مدد کریں اپنے ضمیر کو جگائیں کے ہم لوگوں میں صرف دکھاوا رہ گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں