اسلام آباد / ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی انتہائی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان اور سعودی عرب نے سر جوڑ لیے ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی نازک صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاقائی استحکام پر تشویش: ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ جنگی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کی خاطر فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے (De-escalation) کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے انسانی یا معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے طے کیا ہے کہ بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے مستقبل میں بھی قریبی اور مسلسل رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رابطہ اس وقت ہوا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ مشترکہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی دنیا کی اہم طاقتیں اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی خواہاں ہیں اور کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔