کیلیفورنیا: گوگل کی مصنوعی ذہانت کی تحقیقاتی کمپنی ڈیپ مائنڈ نے اپنا نیا اے آئی ماڈل "Genie 3" متعارف کروا دیا ہے، جو ورچوئل (مجازی) دنیا تخلیق کرنے، یادداشت محفوظ رکھنے اور حقیقی وقت میں صارفین سے انٹریکشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیپ مائنڈ کے مطابق Genie 3 کا شمار ایسے جدید "ورلڈ ماڈلز" میں ہوتا ہے جو صارف کے دئیے گئے پرامپٹ کی بنیاد پر خودکار طور پر ایک مکمل 3D دنیا تیار کر سکتے ہیں۔ ان ورچوئل دنیاؤں میں صارفین ویڈیو گیم کی طرز پر گھوم پھر سکتے ہیں اور مختلف اشیاء یا کرداروں کے ساتھ بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ Genie 3 اپنے پچھلے ورژن کی خامیوں کو بہتر بناتے ہوئے ایک حقیقی اور مسلسل تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اب صارفین ورچوئل دنیا میں چند لمحوں کے بجائے کئی منٹ تک مسلسل انٹریکشن کر سکتے ہیں۔ اس ماڈل میں "بصری یادداشت" (Visual Memory) بھی شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے صارف اگر کسی منظر سے توجہ ہٹا کر واپس آئے تو ماحول جوں کا توں موجود ہوگا۔
ورچوئل دنیا 720p ریزولوشن اور 24 فریم فی سیکنڈ پر چلتی ہے، جو اسے ایک ہموار اور حقیقت کے قریب تجربہ بناتی ہے۔
Genie 3 میں ایک نیا فیچر "Promptable World Events" بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین پرامپٹ کے ذریعے مجازی ماحول میں موسم کی تبدیلی، نئے کرداروں کی شمولیت یا دیگر واقعات کو شامل کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ Genie کا پچھلا ورژن (Genie 2) صرف ایک تصویر کی بنیاد پر مختصر انٹریکشن پر مبنی دنیا تخلیق کر سکتا تھا، جس کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 20 سیکنڈ ہوتا۔ جبکہ Genie 3 میں اب یہ مدت ایک منٹ یا اس سے زائد ہو چکی ہے۔
میٹا اور اوپن اے آئی جیسے اداروں سے مقابلے کے لیے گوگل نے Genie پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے ایک نئی ٹیم بھی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی Sora ویڈیو جنریشن ٹول کے سابق شریک بانی کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین Genie 3 کو مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف گیمنگ بلکہ تعلیم، روبوٹکس، تربیت اور دیگر شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔