سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ یوم عاشور کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اجتماعات پر پابندیاں بھارت کی قیادت کی اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سے چند ماہ قبل جو کچھ بھارت میں ہوا، وہ اس کے تکبر کا انجام تھا اور مودی سرکار کے حامیوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
سیالکوٹ میں عاشورہ کے مرکزی جلوس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ عالم اسلام میں کربلا کی قربانی کی یاد کو عزت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، اور یہ دن ہمیں حق و باطل کی جنگ کی وہ عظیم مثال یاد دلاتا ہے جو امام حسینؓ نے دین اسلام کے تحفظ کے لیے پیش کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج کے دور میں غزہ میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور ظلم کے خلاف عالم اسلام کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہ سو سال قبل بھی جب کربلا کا میدان سجا، امت مسلمہ خاموش تھی، اور آج بھی فلسطین میں ظلم کے خلاف وہی بے حسی دکھائی دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام قربانی دے رہے ہیں، بچوں اور بوڑھوں کو خوراک کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونے پر گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ امام حسینؓ کی قربانی آج بھی مشعل راہ ہے اور غزہ کے مظلوم عوام اسی جذبے کو زندہ کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ مسلم امہ اجتماعی طور پر اس پر کوئی مؤثر ردعمل دینے سے قاصر ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں محرم الحرام کے موقع پر اس بار جو سخت پابندیاں لگائی گئیں، ویسا کبھی نہیں دیکھا گیا، حالانکہ کشمیر میں محرم کا احترام ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت کی مذہبی انتہا پسندی واضح ہو چکی ہے۔
انہوں نے مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا"آج سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے جو کچھ بھارت میں ہوا، اس سے ان کا تکبر خاک میں ملا اور سندور مٹ گیا۔"
وفاقی وزیر دفاع نے عالم اسلام کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلام اور مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ"اسلام کو دفاع کی ضرورت ہے، اور اگر مسلمان نہ کریں گے تو اغیار فائدہ اٹھائیں گے۔"
خواجہ آصف نے کہا کہ یوم عاشور ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہی حقیقی کامیابی ہے، اور ہمیں اس جذبے کو کمزور نہیں پڑنے دینا چاہیے۔