لندن: نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں کو دل کی بیماری کے خطرات کم کرنے کے لیے خواتین کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ورزش کرنا پڑتی ہے۔
یہ تحقیق برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع رپورٹ کے مطابق چین کی شامن یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جس میں یوکے بایو بینک (UK Biobank) کے تحت 80 ہزار سے زائد افراد کے جسمانی سرگرمی کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ خواتین جو ہفتے میں تقریباً 250 منٹ ورزش کرتی ہیں، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، مردوں کو اسی فائدے کے لیے ہفتے میں تقریباً 530 منٹ (یعنی نو گھنٹے کے قریب) ورزش کرنی پڑتی ہے۔
محققین کے مطابق، خواتین نصف وقت کی ورزش سے ہی مردوں کے برابر صحت بخش نتائج حاصل کر لیتی ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جیاجن چن اور ان کی ٹیم نے جریدے نیچر کارڈیو ویسکولر ریسرچ (Nature Cardiovascular Research) میں لکھا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین نصف وقت کی ورزش سے ہی مساوی دل کے فوائد حاصل کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج خواتین کو زیادہ جسمانی سرگرمی کی ترغیب دے سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر دیکھا گیا ہے کہ خواتین عمومی طور پر مردوں کے مقابلے میں کم ورزش کرتی ہیں۔
80 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے افراد کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو ہفتے میں 150 منٹ ورزش کرتی تھیں، ان میں آٹھ سال کے عرصے میں دل کی بیماری کا خطرہ 22 فیصد کم رہا۔ مردوں میں یہی کمی 17 فیصد کے لگ بھگ تھی۔یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین ورزش سے زیادہ مؤثر دل کا تحفظ حاصل کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت دل کے امراض سے موت کا شکار ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ نتائج نہ صرف خواتین کے لیے حوصلہ افزا ہیں بلکہ عوامی صحت کے منصوبوں کے لیے بھی اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) تجویز کرتی ہے کہ 16 سے 64 سال کے مرد و خواتین ہفتے میں کم از کم:
150 منٹ معتدل ورزش (جیسے تیز چہل قدمی، سائیکلنگ وغیرہ)
یا
75 منٹ سخت ورزش (جیسے دوڑنا، تیراکی، یا جم ورزش)
کریں، اور ساتھ ہی ہفتے میں دو بار پٹھوں کو مضبوط بنانے والی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
یہ تحقیق اس تصور کو مضبوط کرتی ہے کہ اگرچہ مردوں اور خواتین کے جسم ورزش پر مختلف ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن دونوں کے لیے ورزش دل کی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔
خواتین نسبتاً کم وقت میں بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہیں، مگر مردوں کو بھی اپنی جسمانی سرگرمی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسی سطح کی حفاظت حاصل کر سکیں۔