برسلز:یورپی یونین نے سرحدی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے اور غیر قانونی قیام کی روک تھام کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام "اینٹری/ایگزٹ سسٹم" (Entry/Exit System - EES) متعارف کرا دیا ہے، جو 12 اکتوبر 2025 سے شینگن زون کے 29 ممالک میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
یہ نظام تمام غیر یورپی مسافروں پر لاگو ہوگا جو شینگن ممالک میں 90 دن تک قیام کے لیے داخل ہوں گے، چاہے وہ ویزا کے بغیر سفر کر رہے ہوں یا قلیل مدتی ویزے کے حامل ہوں۔
ای ای ایس کے تحت مسافروں کی چہرے کی تصویر، فنگر پرنٹس اور پاسپورٹ کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر محفوظ کی جائیں گی۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے سرحدی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے گا، جعلی سفری دستاویزات کی شناخت آسان ہوگی، اور ان افراد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی جو مقررہ قیام کی مدت سے زیادہ عرصے تک رُک جاتے ہیں۔
نیا نظام بارڈر پر مسافروں کے انتظار کے وقت میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جبکہ بائیومیٹرک ڈیٹا کو یورپی یونین کے سخت ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے تحت محفوظ رکھا جائے گا۔ اس ڈیٹا تک صرف مجاز اداروں جیسے کہ امیگریشن حکام، پولیس، بارڈر فورسز، یوروپول اور مخصوص بین الاقوامی ایجنسیوں کو رسائی حاصل ہوگی۔
یورپی یونین مستقبل میں ایسے مسافروں کے لیے “نیشنل فسیلیٹیشن پروگرامز” بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جو یورپ کا بار بار سفر کرتے ہیں، تاکہ ان کے لیے بارڈر پر کارروائی مزید تیز اور آسان بنائی جا سکے۔
یورپی حکام کے مطابق یہ نظام سرحدی نظم و ضبط کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔