کابل : افغانستان میں طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں اور منشیات کے مکروہ دھندے نے پورے خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان اب نہ صرف روایتی بلکہ مصنوعی اور خطرناک منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی گڑھ بن چکا ہے۔
'افغانستان انٹرنیشنل' میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، طالبان دورِ حکومت میں میتھا مفیٹامین (آئس) جیسی خطرناک منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے پھیلنے والے منظم جرائم کے اثرات پڑوسی ممالک سمیت پوری دنیا تک پہنچ رہے ہیں، جو بین الاقوامی امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان انتظامیہ منشیات کے خاتمے کے دعووں کے باوجود اس غیر قانونی تجارت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس سے جرائم پیشہ عناصر کو تقویت مل رہی ہے۔
سیاسی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک مستحکم اور شفاف نظام کی عدم موجودگی نے اسے اسمگلروں کی جنت بنا دیا ہے۔ میتھا مفیٹامین کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ نہ صرف نوجوان نسل کی صحت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ اس سے حاصل ہونے والا پیسہ دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے کا قوی خدشہ ہے۔