نیویارک / لندن:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) نے افغان طالبان کے 22 اہم ترین رہنماؤں پر عائد عالمی پابندیاں برقرار رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کی تائید کرتے ہوئے برطانیہ نے بھی اپنی تعزیراتی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے، جس سے طالبان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ان پابندیوں کا نشانہ بننے والے رہنماؤں میں افغان عبوری حکومت کی سب سے اہم شخصیات شامل ہیں، جن میں درج ذیل نام ملا محمد حسن اخوند (عبوری وزیراعظم)، سراج الدین حقانی (عبوری وزیرِ داخلہ) نمایاں ہیں۔
افغان جریدے ’’ہشت صبح‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اب بھی عالمی امن، علاقائی استحکام اور انسانی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
برطانوی حکومت نے نہ صرف ان پابندیوں کی توثیق کی ہے بلکہ اپنی ملکی فہرست کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ اس کا مقصد طالبان رہنماؤں کے مالی اثاثوں تک رسائی اور ان کی بین الاقوامی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے تاکہ انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان پابندیوں کی برقراری سے طالبان حکومت کے لیے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے (Recognition) کی راہ مزید کٹھن ہو گئی ہے۔