کابل/نیویارک : اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے افغانستان کی معاشی صورتحال پر ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے، جس میں طالبان حکومت کے تحت ملک کو درپیش شدید معاشی بحران، سرمایہ کاری میں کمی اور مالیاتی نظام کے عدم استحکام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں غیر یقینی سیاسی صورتحال اور طالبان رجیم کی مخصوص پالیسیوں نے معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ سخت گیر فیصلوں اور انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
دہشت گرد گروہوں کی مبینہ حمایت اور سلامتی کے خدشات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔افغانستان کا مالیاتی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہونے کے قریب ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی صرف 6 فیصد آبادی کو بینکنگ سہولیات میسر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 94 فیصد عوام رسمی مالیاتی نظام سے کٹ چکے ہیں۔
بینکنگ چینلز کی بندش اور عدم اعتماد کے باعث حوالہ ہنڈی کا کاروبار عروج پر ہے۔ سالانہ تقریباً 5 ارب ڈالر غیر قانونی طریقوں سے منتقل ہو رہے ہیں، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔