نیویارک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان طالبان کے زیر اقتدار شدید معاشی، انسانی اور سفارتی بحران سے دوچار ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے اوائل میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 6.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بیروزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
تخمینہ ہے کہ 3 کروڑ سے زائد افغان شہری شدید غربت کا شکار ہیں اور ملک عالمی بینکاری نظام سے طویل عرصے سے باہر ہے، جس کی وجہ سے مالی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ طالبان حکومت کی غیرقانونی حیثیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مالی حدود کے باعث تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں، جس سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔