اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے خاتمے کی امیدوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی توانائی مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق، جنگ بندی کے معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 16 فیصد کی واضح کمی واقع ہوئی، جس کے بعد اس کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔ اسی طرح، ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی اور وہ اب 95 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جس نے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ حالیہ جنگ بندی نے سپلائی چین کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کو عارضی طور پر کم کر دیا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں حالیہ کمی ایک بڑا ریلیف ہے، تاہم تیل کی قیمتیں اب بھی تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے کہیں زیادہ ہیں۔ حالیہ گراوٹ کے باوجود قیمتیں اب بھی 94 ڈالر کے قریب ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ مارکیٹ اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ماہرین کے مطابق، اگر یہ دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں قیمتیں مزید نیچے آ سکتی ہیں، بصورتِ دیگر سپلائی کا بحران دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔