Get Alerts

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے خیرمقدم، علاقائی امن کے لیے اہم قدم قرار

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے خیرمقدم، علاقائی امن کے لیے اہم قدم قرار

اسلام آباد: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی ممالک کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ مختلف ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی سمت اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کو اجتماعی دفاع کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفاعی تعاون، سیکیورٹی شراکت داری اور دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبوں کو مزید فروغ دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ امن اور استحکام کے خواہاں ممالک کے لیے تعاون کا ذریعہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے معاہدے کو تینوں ممالک کے عوام کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھوتا خطے کو درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

بحرین، یمن اور صومالیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی شراکت داری علاقائی سلامتی، استحکام اور مشترکہ چیلنجز کے مقابلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے امور کے صدر شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ میں اس اہم معاہدے کا طے پانا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کے لیے تعاون کو بڑھانا ہے۔

ٹیگز: