لندن : برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسل انتخابات کے نتائج نے برطانوی سیاست کو لڑکھڑا کر رکھ دیا ہے جہاں حکمران لیبر پارٹی اپنی کارکردگی برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق 'ریفارم یوکے' دونوں بڑی روایتی جماعتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق ایوان کی صورتحال درج ذیل ہے۔ ریفارم یوکے 382 نشستیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ کنزرویٹو پارٹی 251 نشستوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے ۔ لیبر پارٹی (حکمران) 249 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔ لبرل ڈیموکریٹس 245 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے۔
ان نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکمران جماعت لیبر پارٹی عوامی اعتماد کھو چکی ہے اور تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔
انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا عہدہ نہیں چھوڑوں گا: "میں ملک کو افراتفری کی صورتحال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ نتائج سخت اور مایوس کن ہیں اور عوام کی زندگیوں میں اتنی تیزی سے بہتری نہیں آئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ وزیراعظم کے مطابق پارٹی نے کچھ غیر ضروری غلطیاں کیں، تاہم وہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 'ریفارم یوکے' کی غیر معمولی کامیابی نے برطانوی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ لیبر پارٹی کی تیسری پوزیشن پر تنزلی کیئر اسٹارمر کی قیادت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے، جبکہ وزیراعظم کا مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ سیاسی بحران کو مزید طول دے سکتا ہے۔