Get Alerts

 کیئر اسٹارمر حکومت کا مستقبل داؤ پر، 4 وزراء کے استعفوں کے بعد بغاوت شدت اختیار کر گئی

 کیئر اسٹارمر حکومت کا مستقبل داؤ پر، 4 وزراء کے استعفوں کے بعد بغاوت شدت اختیار کر گئی

لندن :برطانیہ کے سیاسی افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت گرانے کے لیے اپنوں نے ہی کمر کس لی ہے۔ نائب وزیراعظم کی خاموش حمایت اور 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے استعفے کے مطالبے نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔
وزیراعظم کی ٹیم کے چار کلیدی اراکین نوبشاہ خان، ٹوم رٹلینڈ، جو مورس اور میلانی وارڈ نے اپنے وزارتی معاونین کے عہدوں سے استعفیٰ دے کر حکومت کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ ان استعفوں کو اسٹارمر کی قیادت کے خلاف 'اعلانِ جنگ' قرار دیا جا رہا ہے۔
مستعفی ہونے والے معاونین اور باغی ارکان نے وزیراعظم کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔  باغی گروپ کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب عوام کی نمائندگی کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے اور کوئی بھی مثبت تبدیلی لانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ارکانِ پارلیمنٹ کا ماننا ہے کہ اگر قیادت فوری طور پر نہ بدلی گئی تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
تمام تر دباؤ اور استعفوں کے باوجود وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پسپائی اختیار کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ کڑے وقت میں میدان نہیں چھوڑیں گے اور اپنی پالیسیوں کا دفاع جاری رکھیں گے۔

ٹیگز: