پرتگال: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوتریس نے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی عوامی زندگی، تعلیم اور روزگار کے مختلف شعبوں میں شرکت پر عائد پابندیاں ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور افغانستان کی معاشی ترقی، استحکام اور عالمی برادری میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 7 ستمبر کو افغان خواتین کے ملک بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے پر پابندی کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ پابندیاں عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں اور ادارے کی جانب سے افغان عوام تک امداد پہنچانے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
انتونیو گوتریس نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغان خواتین کے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پر عائد پابندی فوری طور پر واپس لی جائے اور انہیں ملک بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے افغان حکام پر زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور انہیں افغان معاشرے کے تمام شعبوں میں مکمل، مساوی اور بامعنی کردار ادا کرنے کا حق دیا جائے۔