ریاض / تہران :خلیجی خطے میں حالیہ شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جسے دونوں ممالک کے مابین حالیہ بحران کے بعد پہلا باضابطہ اور کلیدی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص خلیجی خطے کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
???????????????? | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan receives a phone call from Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. pic.twitter.com/13gMlSz6En
— Foreign Ministry ???????? (@KSAmofaEN) April 9, 2026
رابطے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بحالی کے لیے صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ سفارتی چینلز کا متحرک ہونا ناگزیر ہے۔
یہ اہم رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ اگرچہ تجزیہ کار اس رابطے کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی نازک ہے اور مکمل امن کے لیے مزید ٹھوس مذاکرات کی ضرورت ہے۔