لاہور : پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تنازع کے حل کے لیے ہونے والے 5 گھنٹے طویل مذاکرات کی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آگئی ہے۔ آئی سی سی نے پاکستان کو بھارت کے خلاف کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ہے، جس کے بعد آئندہ 24 گھنٹے کرکٹ کی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ اگر آئی سی سی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کو مطمئن کر لے تو پی سی بی بھی اپنے سخت مؤقف میں لچک دکھا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے سامنے تین بڑے مطالبات رکھ دیے ہیں۔ آئی سی سی ریونیو شیئر میں بنگلہ دیش کے حصے میں اضافہ کیا جائے۔
آئی سی سی تحریری ضمانت دے کہ بھارتی ٹیم ستمبر میں بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی۔ بنگلہ دیش چاہتا ہے کہ 2031 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز بھارت کے بجائے بنگلہ دیش میں منعقد ہوں۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی حکام کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ کرکٹ بورڈ اپنی جگہ، مگر بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف ہی کریں گے۔ محسن نقوی آج وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں آئی سی سی اور بی سی بی کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دیں گے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ہدایات لیں گے۔
آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی سابقہ زیادتیوں کے ازالے کے لیے ایک خصوصی فارمولہ تیار کر لیا ہے۔ آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ آج جنیوا/دبئی میں آئی سی سی بیوروکریسی سے مشاورت کے بعد پی سی بی کو حتمی جواب دیں گے۔اگر یہ فارمولہ کامیاب رہا تو دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو جلد ہی پاک بھارت ٹکراؤ کی خوشخبری مل سکتی ہے۔