ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں 15 سالہ آمریت کے سورج غروب ہوتے ہی عوامی غصے کا رخ نئی دہلی کی طرف ہوگیا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی دیواروں سے لے کر گلی کوچوں تک گونجنے والا نعرہ ’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘ دراصل بھارتی مداخلت اور حسینہ واجد کی طویل پشت پناہی کے خلاف ایک عوامی چارج شیٹ بن چکا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر موقر بین الاقوامی اخبارات وجرائد کے تناظر میں سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل (Gen Z) بھارت کو ایک برابری کے پڑوسی کے بجائے ایک ’جابر قوت‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ نوجوانوں کا الزام ہے کہ بھارت نے 2014، 2018 اور 2024 کے مشکوک انتخابات میں شیخ حسینہ کا ساتھ دے کر بنگلہ دیشی عوام کے جمہوری حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2024 کی بغاوت، جس میں 1400 افرا د شہید ہوئے، کے بعد شیخ حسینہ کا بھارت فرار ہونا اور دہلی کا انہیں پناہ دینا عوامی غم و غصے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈھاکہ ان کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
سیاسی تنازع اب مکمل طور پر سماجی اور معاشی بائیکاٹ میں بدل چکا ہے۔سوشل میڈیا پر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زوروں پر ہے، جس سے 13.5 ارب ڈالر کی ممکنہ تجارت کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
آئی پی ایل سے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی دوری اور ورلڈ کپ میچز کی منتقلی پر بھارتی انکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ویزا سروسز کی معطلی نے عوامی رابطوں کو منقطع کر دیا ہے، جس سے بھارتی اثر و رسوخ (Soft Power) دم توڑ رہا ہے۔
اپنا اثر و رسوخ ختم ہوتے دیکھ کر بھارت اب دفاعی پوزیشن پر ہے اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے۔ دہلی اب مجبوراً بی این پی اور جماعتِ اسلامی جیسی جماعتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے جنہیں وہ برسوں تک نظر انداز کرتا رہا۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا دورہِ ڈھاکہ اور جماعتِ اسلامی کو یومِ جمہوریہ پر مدعو کرنا اس بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے، مگر عوامی سطح پر سرد مہری اب بھی برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، تعلقات کی اس ابتر صورتحال کی جڑیں گہری ہیں۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں سرحدوں پر ہونے والا خونِ ناحق اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ دریاؤں کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے عوامی نفرت کو مزید ہوا دی ہے۔ بنگلہ دیش اب بدل چکا ہے۔ نئی نسل بھارت کو یہ باور کرا رہی ہے کہ تعلقات کی بنیاد 'بالادستی' کے بجائے 'باہمی احترام اور خود مختاری' پر ہونی چاہیے۔ اگر بھارت نے اپنی 'شخصی سیاست' کی پالیسی نہ بدلی، تو خطے میں اس کی تنہائی ناگزیر ہے۔