واشنگٹن/تل ابیب: ایران میں تیل کی تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان پہلا بڑا اختلاف سامنے آیا ہے۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکا نے اسرائیل سے پوچھا ہے کہ اس نے آئل ریفائنریوں اور توانائی کے ذخائر پر حملے کیسے کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے تہران سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 30 آئل ڈپو اور توانائی کے ذخائر کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی حکام نے کہا کہ وہ اس شدت کے حملوں کی توقع نہیں کر رہے تھے اور انہیں پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیل کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں اور اس سے ایران میں حکومت کی عوامی حمایت بھی بڑھ سکتی ہے۔