Get Alerts

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: بھارتی خارجہ پالیسی عالمی تنقید کی زد میں، 'مڈل ایسٹ آئی' کے سنگین سوالات

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: بھارتی خارجہ پالیسی عالمی تنقید کی زد میں، 'مڈل ایسٹ آئی' کے سنگین سوالات

لندن/نئی دہلی : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بدلتی ہوئی صورتحال نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر بحث اور تنقید کا مرکز بنا دیا ہے۔ برطانوی جریدے ’مڈل ایسٹ آئی‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت کے دوغلے سفارتی طرزِ عمل اور متضاد بیانات پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت ایک طرف ایران سے قریبی اور تاریخی تعلقات کا دعویدار ہے، لیکن عملی میدان میں اس کا جھکاؤ مکمل طور پر اسرائیل کی جانب نظر آتا ہے۔ جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ      وزیراعظم نریندر مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں باقاعدہ جنگ چھڑنے سے محض دو روز قبل اسرائیل کا دورہ کیوں کیا؟ اس دورے کے وقت اور مقاصد پر سفارتی حلقوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
 ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد عالمی برادری کے ردعمل کے برعکس، بھارتی حکومت کئی روز تک کسی بھی قسم کا مذمتی بیان جاری کرنے سے گریزاں رہی، جس نے تہران اور دہلی کے تعلقات میں دراڑیں واضح کر دی ہیں۔
’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی موجودہ پالیسی "دو کشتیوں کی سواری" کے مترادف ہے بھارت ایک طرف عرب ممالک اور ایران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔دوسری طرف وہ اسرائیل کے ساتھ سٹریٹجک اور دفاعی شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس پالیسی سے مسلم دنیا میں اس کا امیج متاثر ہو رہا ہے۔ ایران کی جانب سے سرد مہری اور اسرائیل کے ساتھ مودی کی بڑھتی ہوئی قربت نے نئی دہلی کو مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ تنازع میں ایک متنازع پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

ٹیگز: