Get Alerts

مولانا فضل الرحمان کا سفارتی محاذ پر حکومتی کارکردگی پر اظہارِ عدم اطمینان، پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اعلان

مولانا فضل الرحمان کا سفارتی محاذ پر حکومتی کارکردگی پر اظہارِ عدم اطمینان، پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اعلان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کی سفارتی کوششیں ناکافی اور غیر مؤثر ہیں۔ قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نازک وقت میں پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن سفارتی محاذ پر سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی مشنز کو چاہیے تھا کہ وہ فوری طور پر دوست ممالک کے دورے کرتے اور پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کرتے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ یومِ دفاع وطن کے طور پر 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ منعقد کیے جائیں گے، جن میں عوامی سطح پر قومی یکجہتی اور دفاع وطن کا پیغام دیا جائے گا۔

انہوں نے پاک فوج کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ہمیں افواجِ پاکستان سے گلے شکوے ضرور ہیں، لیکن وطن کی حفاظت کی بات آئے تو ہم دو قدم آگے ہوں گے۔" ان کا کہنا تھا کہ قوم اس وقت متحد ہے اور فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق پھیلنے والے پروپیگنڈے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ عوام میں انتشار نہ پھیلے۔

انہوں نے انصار السلام کے کارکنوں کو شہری دفاع کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں پوری قوم کو ایک ہی بیانیے کے تحت متحد ہونا چاہیے۔

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے غزہ کی تباہ کن صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دفاعی اداروں کو مضبوط کریں اور ان کے پیچھے کھڑے ہوں۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اسرائیلی ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھارت اور اسرائیل دونوں کے خلاف یکساں مؤقف اپنائیں۔

ٹیگز: