Get Alerts

''ٹرمپ کی ثالثی کا دعویٰ جھوٹا ''، بھارت کی نوبیل کمیٹی کو وضاحت

''ٹرمپ کی ثالثی کا دعویٰ جھوٹا ''، بھارت کی نوبیل کمیٹی کو وضاحت

نئی دہلی / اوسلو : بھارت نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دیے جانے کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان نے اس کی  سفارش   کی تھی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کو کم کرنے میں "فیصلہ کن سفارتی کردار" ادا کیا تھا۔

تاہم، بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ بھارت پاکستان جنگ بندی کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہوئی تھی، اور اس میں امریکہ یا صدر ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ امن معاہدہ مکمل طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین طے پایا تھا اور کسی بیرونی ملک نے ثالثی نہیں کی۔ اس سلسلے میں امریکی دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر بھارتی عہدیدار نے کہا نوبیل انعام کے بارے میں فیصلہ کرنا نوبیل کمیٹی کا اختیار ہے، لیکن بھارت کی پوزیشن واضح ہے  صدر ٹرمپ کا اس جنگ بندی میں کوئی کردار نہیں تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جون 2025 میں صدر ٹرمپ سے ایک فون کال کے دوران ان کی ثالثی کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا، جب ٹرمپ نے ایک بار پھر امن معاہدے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی تھی۔

اگرچہ یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ بھارت کے سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے اوسلو میں نوبیل امن مرکز کو ایک تحریری بیان جمع کروایا ، جس میں ٹرمپ کے دعوے کی تردید کی گئی ۔ تاہم اس کی باضابطہ تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی۔

ٹیگز: