کراچی: شہر قائد میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا، جب کہ مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کے باعث پانی رہائشی علاقوں اور سڑکوں پر جمع ہو گیا۔
سرجانی ٹاؤن، ناگن چورنگی، نشتر بستی اور عیسیٰ نگری سمیت کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایوب گوٹھ پل اور لاسی گوٹھ کے مقام پر ملیر ندی اوور فلو کر گئی، جبکہ تھڈو ڈیم بھرنے کے بعد لیاری اور ملیر ندیوں میں طغیانی آ گئی۔
تھڈو ڈیم کا پانی بہہ کر موٹروے ایم 9 تک پہنچ گیا، جس سے حیدرآباد جانے والے ٹریک پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی جانب سے سہراب گوٹھ، حسن منان کالونی اور گلشن اقبال میں امدادی کارروائیاں کی گئیں، جہاں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
صورتحال کے پیش نظر قائم مقام کمشنر کراچی نے آج کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہریوں کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں تیز کی جائیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نکاسی آب کے دیرینہ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرے تاکہ ہر سال بارشوں کے دوران پیدا ہونے والی تباہی سے بچا جا سکے۔