اسلام آباد/واشنگٹن: پاکستان کے معاشی استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ نئے اشتراکِ عمل کے لیے ایک اہم ترین ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی اصلاحات کے ایک نئے اور پائیدار مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں باضابطہ اجلاسوں میں شرکت سے قبل وزیر خزانہ بوسٹن کا رخ کریں گے۔ جہاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس" میں شرکت اور خطاب کریں گے۔
دورے کا سب سے اہم مرحلہ واشنگٹن ڈی سی میں شروع ہوگا، جہاں 13 سے 18 اپریل تک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار کے اجلاس (Spring Meetings) منعقد ہو رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی وزراء سے ملاقاتیں: مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں تاکہ تجارتی اور معاشی روابط کو مضبوط کیا جا سکے۔
ماہرین اس دورے کو پاکستان کی معیشت کے لیے "سنگِ میل" قرار دے رہے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، جو بین الاقوامی بینکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے پاکستان کا کیس مضبوطی سے لڑیں گے۔