کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی اور فساد کے خاتمے کے لیے سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔بلوچستان اسمبلی میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ہم نے کبھی سیاسی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے مخالفین کو دعوت دی کہ وہ انتشار اور فساد کا راستہ ترک کر کے آئیں اور آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہ کر انتخابی اصلاحات، آئینی حقوق اور فنڈز کی تقسیم جیسے اہم معاملات پر بات چیت کریں۔
وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت ریاست کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنایا گیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ نوجوانوں کو پروپیگنڈے کے ذریعے ریاست سے متنفر کیا جا رہا ہے، جو کہ صوبے کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ معصوم شہریوں اور بچوں کا خون بہانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ قانون ہاتھ میں لے کر لوگوں کو قتل کرے۔
اس موقع پر بلوچستان اسمبلی نے 31 جنوری کے واقعات سے متعلق ایک اہم قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی، جس میں حکومتی موقف کی تائید اور امن و امان کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔