کراچی : برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام کی جدوجہد کرنے والے بانیٔ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77ویں برسی آج 11 ستمبر کو ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے خصوصی تقاریب، سیمینارز اور دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
قائداعظمؒ، جنہیں 1937 میں مولانا مظہر الدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیا، نے اپنی ولولہ انگیز قیادت سے برصغیر کے مسلمانوں کو نہ صرف ایک علیحدہ شناخت دی بلکہ پاکستان جیسی آزاد ریاست کے قیام کو بھی ممکن بنایا۔ انہوں نے گاندھی، نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن جیسے سیاسی رہنماؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناقابلِ فراموش جدوجہد کی۔
ابتداء میں کانگریس کے ساتھ آزادی کی تحریک میں شریک رہے، تاہم جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دن رات محنت کرتے ہوئے قوم کو ایک نصب العین دیا اور بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم ملک کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے اور 11 ستمبر 1948 کو وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی انہوں نے قوم کو پیغام دیا کہ:"آپ کی مملکت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، اب آپ کا فرض ہے کہ اس کی تعمیر کریں۔"
قائداعظمؒ کی برسی کے موقع پر مختلف شہروں میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، دعائیہ تقریبات اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالنے کے لیے کانفرنسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کر رہے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا پر ان کی جدوجہد، اصول پسندی اور سیاسی بصیرت پر مبنی دستاویزی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔