Get Alerts

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا کردار تاریخی: "سفارتکاری ایونٹ نہیں، مسلسل عمل ہے"

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا کردار تاریخی:

اسلام آباد / لاہور :پاکستان کی سیاسی قیادت نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کے قیام اور فریقین کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کی حالیہ کوششوں کو عالمی سطح پر بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا، سینئر وزیر پنجاب اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے پاکستان کے غیر جانبدارانہ اور کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملکی وقار میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے  'نیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی کاوشیں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ  مذاکرات کبھی ایک دن میں نتیجہ نہیں دیتے، یہ ایک وقت طلب عمل ہے۔ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ 
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری میں خود کو ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد امن مذاکرات کار کے طور پر منوایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ سفارتکاری محض ایک ایونٹ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں پاکستان سرخرو ہوا ہے۔

وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا بھر میں ایک اہم اور کلیدی ملک کے طور پر ابھرا ہے، جس کی امن کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران طویل کشیدگی کے بعد مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ 40 دن کی خوفناک جنگ، جس میں ایران کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس کے بعد 15 روزہ جنگ بندی (سیز فائر) کا ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی مستقل امن میں بدل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ   جب قوموں کے درمیان دہائیوں پرانی دشمنی ہو تو نتائج فوری نہیں آتے، تاہم فریقین کا مذاکرات پر آمادہ ہونا ہی سب سے بڑی جیت ہے۔
حذیفہ رحمان نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین سفارت کاری کا ثبوت دیا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے ڈی وینس مذاکرات کو کسی بند گلی میں چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ ایران کی جانب سے بھی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے مثبت اشارے ملے ہیں۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ     پاکستان نے نہ صرف مذاکرات کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم مہیا کیا بلکہ بہترین مہمان نوازی سے دنیا کو امن کا پیغام دیا۔    اگرچہ ابھی 100 فیصد نتائج حاصل نہیں ہوئے، لیکن اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ امن کا عمل تدریجی ہوتا ہے۔
    وزیراعظم کا خواب ہے کہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں امن قائم ہو، اور پاکستان اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔حذیفہ رحمان نے پاکستانی میڈیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس معاملے پر میڈیا نے انتہائی ذمہ دارانہ اور اہم کردار ادا کیا ہے، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی امن کے لیے اپنا "پیس میکر" کا کردار ادا کرتا رہے گا۔سابق وزیر اطلاعات اور سینئر سیاستدان فواد چوہدری نے بھی پاکستانی قیادت کے اس سفارتی اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ    مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں منعقد ہوگا۔    40 سال سے قائم بداعتمادی کو ختم ہونے میں وقت لگے گا، لیکن آغاز مثبت ہے۔    مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ اس سے خطے میں پاکستان کی تزویراتی (Strategic) اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی نے اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم مرکز بنا دیا ہے۔

ٹیگز: