اسلام آباد: پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی عسکری اور اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیے جانے کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے — ایک ایسا قدم جو بھارت کے لیے شدید جھٹکا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں اور بلند ٹیرف ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے پیچھے جنرل عاصم منیر کی قیادت کارفرما ہے۔
فیلڈ مارشل نے بھارت، دہشت گردی، اور سندھ طاس معاہدے جیسے اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف نہایت واضح اور جرات مندانہ انداز میں پیش کیا ہے، جو عوامی سطح پر بھی مقبول ہو رہا ہے۔ ان کے بیانات میں جو عزم، وضاحت اور سچائی نظر آتی ہے، وہ حالیہ برسوں میں کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔
دوسری جانب بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا جنرل عاصم منیر پر شدید تنقید کر رہے ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی دہلی میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل منیر بھارت کے لیے ایک ایسا چیلنج بن چکے ہیں جس کا مقابلہ کرنا اس کے لیے آسان نہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں جو ایمان، ذہانت اور قومی مفادات سے سرشار ہے — اور جنہوں نے پاکستانی بیانیے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔