Get Alerts

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا آغاز، بی این پی اور جماعت اسلامی میدان میں

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا آغاز، بی این پی اور جماعت اسلامی میدان میں

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نئی قیادت کا انتخاب کریں گے۔ انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، دونوں جماعتوں کے امیدوار وزارت عظمی کے لیے میدان میں ہیں۔

بی این پی کی جانب سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارت عظمی کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان مضبوط امیدوار ہیں۔ 300 پارلیمانی نشستوں پر 1981 امیدوار میدان میں ہیں، اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

اس وقت بنگلہ دیش کی عوامی لیگ کے امیدوار انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے رہے کیونکہ ان پر پابندی عائد ہے۔ تاہم، جین زی کی قیادت میں نیشنل سٹیزن پارٹی کا اتحاد جماعت اسلامی کے ساتھ ہے، اور یہ اتحاد فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

نوجوانوں کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پہنچ چکی ہے اور انتخابات کے ساتھ ہی حالیہ قانون سازی پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے لیے 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اور فوج کی نگرانی میں انتخابی عمل جاری ہے۔

انتخابی نتائج کا فیصلہ 44.1 فیصد ووٹ کے لیے بی این پی اور 43.9 فیصد ووٹ کے لیے جماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان متوقع ہے، اور اس مقابلے میں جین زی کے ووٹ کی اہمیت کو "کنگ میکر" کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پولنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا، اور خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستوں پر بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔

ٹیگز: