ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں جاری عام انتخابات میں جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ کا عمل جاری ہے، اور سیاسی رہنما اپنے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد دھاندلی کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی کے الزامات سنجیدہ ہوئے تو کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور عوام کو جمہوری حق استعمال کرنے کے لیے گھروں سے نکل کر انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ شفیق الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی کی کامیابی کی صورت میں پہلی اسلام پسند حکومت قائم ہو سکتی ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات منصفانہ اور آزادانہ ہوں تاکہ جمہوریت کا حسن برقرار رہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے بھی ووٹ ڈالنے کے بعد یہی کہا کہ وہ صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں، اور انہیں ہار جیت سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف اپنا حق رائے دہی استعمال کریں اور انتخابی عمل میں حصہ لیں۔ ناہید اسلام نے گزشتہ رات پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ کچھ شرپسند عناصر انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ان کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے بھی ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی اسکول میں ووٹ ڈالا، جہاں انہوں نے سترہ سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آ کر اپنے انتخابی حق کا استعمال کیا۔ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بھی آج اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن بہت جدوجہد اور خون کے بدلے حاصل کیا گیا ہے، اور آج عوام نے اپنا حق رائے دہی حاصل کر لیا ہے۔
فخرالاسلام عالمگیر نے امید ظاہر کی کہ انتخابات منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے، اور یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے گزشتہ رات کے ناخوشگوار واقعات کو شرپسندوں کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں شکست ہوگی۔
انتخابی عمل میں سیاسی کشمکش اور دھاندلی کے الزامات کے باوجود عوامی جوش اور سیاستدانوں کی جانب سے مثبت پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اور پورے ملک میں انتخابات کی شفافیت کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔