Get Alerts

مودی اور حسینہ واجد کا مبینہ گٹھ جوڑ، خطے میں عدم استحکام پر سوالات

مودی اور حسینہ واجد کا مبینہ گٹھ جوڑ، خطے میں عدم استحکام پر سوالات

نئی دہلی :جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بنگلادیش کے سیاسی بحران کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے مبینہ کردار پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

بنگلادیش کے سابق چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ایک حالیہ انٹرویو میں دونوں رہنماؤں کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے سیاسی بحران میں بھارت کی جانب سے سنجیدہ سفارتی کردار ادا کرنے کے بجائے، مودی حکومت نے خاموشی اختیار کی، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

محمد یونس کے مطابق، شیخ حسینہ واجد نے بحران کے دوران آن لائن نفرت انگیز بیانیے کو ہوا دی، اور جب اس بارے میں بھارتی وزیراعظم سے تعاون کی اپیل کی گئی تو ان کا جواب غیر سنجیدہ تھا۔ مودی نے مبینہ طور پر کہا: "یہ سوشل میڈیا ہے، ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔یونس کا کہنا تھا کہ یہ ردعمل جنوبی ایشیا میں ممکنہ عدم استحکام سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، "جب بنگلادیش ایک انسانی بحران سے گزر رہا تھا، بھارت کی طرف سے کوئی مؤثر یا ذمہ دارانہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔"

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے بڑے ممالک، خصوصاً بھارت، کو مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کو روکنا ہے تو باہمی سفارتی تعاون اور غیر جانبداری ضروری ہے۔

ٹیگز: