نئی دہلی :نئی دہلی اور تل ابیب کے مبینہ گٹھ جوڑ نے خطے کے امن اور استحکام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی حکومت کی پالیسیوں نے بھارت کو اسرائیل کی پراکسی کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ اس اشتراک سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی جنم لے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے بعض کرد گروپوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، جب کہ یہی نیٹ ورک کالعدم تنظیم بی ایل اے سمیت دیگر گروہوں کو بھی بالواسطہ طور پر سپورٹ فراہم کرتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے کے اہم عناصر کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے مالی و لوجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی، حالیہ دنوں میں اسرائیلی اور کرد سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مخصوص مقامات پر حملوں کے حوالے سے غیر معمولی پیشگی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں میانوالی ایئر بیس اور جعفر ایکسپریس پر حملے شامل ہیں۔
کرد کمانڈر جنرل یزدانپنا کے اسرائیل کے حق میں بیانات نے مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگ کے نئے پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد، کئی برسوں سے عراقی کردستان میں سرگرم بعض گروپوں کو مالی، تکنیکی اور عسکری تعاون فراہم کر رہا ہے۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 سے 2024 کے دوران کئی اسرائیل-کرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا، جن کا مقصد ایرانی حدود کے اندر خفیہ سرگرمیاں انجام دینا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور بھارتی تعاون کا یہ دائرہ جاسوسی، سائبر سیکیورٹی، اور پراکسی جنگ جیسے حساس شعبوں تک پھیل چکا ہے، جو خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بن رہا ہے۔