Get Alerts

بھارت آبی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، عاصم افتخار

بھارت آبی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، عاصم افتخار

نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے ایک اہم اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا اور عالمی برادری سے فوری مدد اور توجہ کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ میں سندھ طاس معاہدے، پاکستان کے آبی بحران اور مستقبل کے لائحہ عمل پر منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت آبی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے فصلیں تباہ ہوئیں، لوگ بے گھر ہوئے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت ڈیٹا شیئر کرنے کا پابند ہے، لیکن اس کی جانب سے عدم تعاون نے نہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچایا بلکہ بین الاقوامی وعدوں کی ساکھ کو بھی مجروح کیا۔

اسی اجلاس میں قطر پر اسرائیلی حملے پر بھی بات ہوئی، جہاں پاکستان نے اسرائیل کے نمائندے کے ریمارکس کا بھرپور جواب دیا۔ عاصم افتخار نے کہا کہ:“اسرائیل ایک جارح، ایک قابض ریاست ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے قطر جیسے ثالث پر حملہ کر کے امن مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کیا، اور یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے اسرائیلی نمائندے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا:“یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک قابض ملک، جو خود مظالم کر رہا ہے، دوسروں پر الزامات لگا رہا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے فورم کا غلط استعمال ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف الزامات نہیں لگاتا بلکہ عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی دھمکاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مظلوم بننے کا ڈھونگ اب بے نقاب ہو چکا ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس موقع پر پاکستان کے خلاف اسرائیلی ریمارکس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ:“پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی قربانیاں دی ہیں، القاعدہ جیسی تنظیموں کا خاتمہ پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوا۔”
انہوں نے سلامتی کونسل پر واضح کیا کہ پاکستان کسی غیرذمہ دار ریاست کی انگلی اٹھانے والی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسی ریاست جو خود دہائیوں سے ریاستی دہشت گردی کر رہی ہو، جیسے کہ فلسطین اور غزہ میں جاری مظالم۔

ٹیگز: